Saturday, May 22, 2010

Thursday, April 8, 2010

Wednesday, April 7, 2010

Tuesday, February 2, 2010

Enemy of Peace

تعصب پرستی کی انتہا ہو گئی!
گزشتہ کافی دنوں سے آسٹرےلےا مےں ہندوستانی طلبہ پر نسل پرستانہ تشد د اور حملے کی وجہ سے ہندوستانی عوام سخت پرےشانی مےں مبتلا ہےں۔اےسے مےں آسٹرےلےائی حکومت کے خلاف عوام کی ناراضگی اور احتجاج اےک فطری امر ہے۔شےوسےناسربراہ بال ٹھاکرے نے تو ےہاں تک کہہ دےا ہے کہ اگر حکومت آسٹرےلےا اسی طرح کے روےے کو برقرار رکھتی ہے تو آئندہ کرکٹ سےزن مےں چاہے وہ آئی پی اےل ہو ےا کوئی دوسرا ٹورنامنٹ آسٹرےلےا ئی کھلاڑےوں کو ہندوستان کی سرزمےن پر کھےلنے نہےں دےں گے۔بال ٹھاکرے صاحب نے بجا فرماےا اس سے آپ وطن دوستی کا ثبوت دےنے کی کوشش کررہے ہےںاور اےسا ہونابھی چاہئے ،کےونکہ آپ کے ہم وطنوں پر ظلم و تشددہو کوئی بھی محب وطن ےہ گوارہ نہےں کرے گا۔مگرکےا مہاراشٹر مےں آپ نے جو نسل پرستانہ اورتعصب کی آگ لگا رکھی ہے اس سے آپ کی وطن پرستی ثابت ہوتی ہے؟کےا ےوپی،بہار،بنگال اور دےگر رےاستوں کے باشندے ہندوستانی نہےں ہےں؟ےا صرف وہ چند لوگ سچے ہندوستانی ہےں جو مراٹھی زبان پر قدرت رکھنے کے ساتھ آپ کا اطاعت گزار ہو؟کےا وہ لوگ ہندوستانی نہےں ہےں جو روزی روٹی کی تلاش مےں ممبئی ےا دہلی جےسے بڑے شہر مےں روزگار کے لئے جاتے ہےں اور وہاں انہےں ےہ کہا جاتا ہے کہ ٹےکسی کا لائسنس صرف انہےں ملے گا جو مراٹھی زبان جانتا ہو اور بےس بائےس سال سے مہاراشٹر مےں قےام پذےرہو؟اےسے بہت سارے تلخ سوالات ہےں جن کا فرقہ پرست قائدےن کے کند ذہن لےڈران جواب دےنے سے قاصر ہےں۔
مہاراشٹر مےں مراٹھی واد کی ےہ نسل پرستی بہت ہی خطرناک ہے،کےونکہ اس سے فرقہ پرستی اور تشدد کو ہوا ملتی ہے۔علاقائی تعصب ،لسانی تعصب،رےاستی تعصب کے مضراور خطرناک اثرات سے ہر شخص واقف ہے اس کے باوجود شےوسےنا،آر اےس اےس،وشوہندوپرےشد اور بی جے پی جےسی تنظےمےں ملک کوکس سمت لے جانے کی کوشش کررہی ہےں ےہ اےک حل طلب سوال ہے۔
آسٹرےلےا مےں ہندوستانی طلبہ پر حملے نہاےت ہی افسوسنا ک ہےں۔ اس سلسلے مےں حکومت ہندکو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی حکومت کوان آستےن کے سانپوں کو مارنے کی بھی ضرورت ہے جو گاہے بگاہے ہندوستان کی پاک و شفاف فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہےں اور ےہاں کے امن و سکون کو غارت کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے آزمانے کی کوشش کرتے ہےں۔
بال ٹھاکرے نے گزشتہ دنوں ’سامنا‘ مےں مہاراشٹر کے وزےر اعلیٰ اشوک چوان کو ورغلانے اور مشتعل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ےہ کہا ہے کہ ٹےکسی لائسنس معاملے مےں اپنے سابقہ بےان پر جمے رہےں۔بال ٹھاکرے صاحب کا ےہ بےان ان کی فرقہ پرست ذہنےت کی کھلی دلےل ہے جنہےں امن و سکون سے سخت نفرت ہے،جو اپنے روےے اور اقوال سے ےہ پےغام دےنا چاہتے ہےںکہ ہندوستان مےں غرےب او رپسماندہ لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہےں۔ٹھاکرے صاحب کو غرےب اور اقلےت دشمن کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔
موبائل:9818253782

Sunday, January 31, 2010

Saturday, January 23, 2010

Hal-E-Dil

تےری آنکھوںکی چمک نگاہو ں کو خےرہ کردےتی ہےں،تےری زلفوں کی مہک دماغ مےں سرور و مستی کی کےفےت پےداکردےتی ہے۔تم جب اپنی زلفےں لہراتی ہو تو ےوں محسوس ہوتا ہے جےسے آسمان کی کالی گھٹا برسنے کو تےار ہے اور تےرا چاند سا منور چہرہ جب مےرے سامنے آتا ہے تو اےسالگتا ہے کہ جےسے صبح کی پہلی کرن تمام تر تابانےوں کے ساتھ مےرے سامنے ہو۔تم مسکراتی ہو تولگتا ہے تمہارے لبوں سے پھول کے موتی جھڑ رہے ہےں۔تم جب چلتی ہو تو لگتا ہے کوئی ہرنی بل کھاتی لہراتی اپنے دھن مےں مگن چلی آرہی ہے۔تمہاری اس ادا پرسوسو بار قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔
اے قاتل حسےنہ تم نے مےرے دل کو اپنااسےر خےال بنالےا ہے،تم مےرے دل کی قاتل ہو،تم مےرے سکون کی قاتل ہو،تم مےری سانسوں مےں بسی ہو،تم مےری دھڑکنوں کی آوازہو، تم مےرے جےنا کی تمناہو،تم مےرے خےالوں کی ملکہ ہو،مےری سوچوں پرتےرے خےال کا پہرہ ہے،مےری آنکھوں پر تےری دےد کی خواہش ہے،مےری زبان پر تےری ےادوں کا ذکر ہے۔
مےں اس پاگل دل کاکےاکروں جو تمہےں چاہتے رہنے کی گستاخی کررہا ہے۔مےں ان سوچوں پر کےسے پہرے بٹھاﺅں جو تمام پہرے اور اصول کو توڑ کر تم تک پہنچنے کی تمناکرتاہے۔مےں اس دل کی دنےا کو کےسے وےران کردوں جو تمہاری ےادوں کااےک حسےن گھر بنائے ہوئے ہو،مےں اپنے دل کے اس حسےن باغ کو کےسے اجاڑ دوں جو تمہاری ےادوں کا حسےن گلدستہ ہے،مےں کےاکروں اس دےوانہ دل کا جو مجنوﺅں کی طرح لےلیٰ لےلیٰ کی رٹ لگائے ہوئے ہے،مےں کےا کروں اس دل کا جو مچل مچل کرتمہےں بانہوں مےں بھرنے کی کوشش کررہاہے۔
تو نہ ملی تو مےرے دل کی وادی وےران ہو جائے گی ، مےرے دل کی وےران وادےوں مےں خزاں رسےدہ پتے بھٹکتی روح کے مانند پھرتے رہےں گے اور پھر مےرے دل کی وادی وےران اور بنجر ہو جائے گی اور زندگی بھر وہاں کوئی گل نہےں کھِلے گا۔
مےری زندگی کی حاصل اب آبھی جا،مےرے دلوں کی ملکہ اب آبھی جا،مےری سانسوں کی محافظ اب آبھی جا،مےری دھڑکنوں کی صدا اب آبھی جا،مےری ےادوں کی ناگن اب آبھی جا،مےری جذبوں کی ساحر اب آبھی جا،مےری آنکھوں کی نور اب آبھی جا،مےرے خےالوں کی حور اب آبھی جا ،مےرے سپنوں کی رانی اب آبھی جا اور اے مےرے خوابوں کی شہزادی اب آبھی جا۔